Showing posts with label Kids Corner. Show all posts
Showing posts with label Kids Corner. Show all posts
حدیث نمبر 15

قال رسول الله

 
سب سے بہتر ذکر لَا اِلَهَ اِلَّا اللہَ ہے"۔[جامع الترمذی:3383]
 پیارے بچو!
آپ کو یاد ہےنا کہ حدیث نمبر 9 میں ہم نے پڑھا تھا کہ 
لَا اِلٰه اِلَّا الله کہنے سے صدقہ کا اجر ملتا ہے۔اب اس ذکر کی مزید فضیلت اس حدیث سے معلوم ہو رہی ہے۔
 📝ذکر کا معنی: "یاد کرنا"
 کس کو؟ اللہ سبحانہ وتعالىٰ کو
قرآن مجید میں آتا ہے:
 " اورجو رحمٰن کے ذکر سے  اندھا(غافل) ہو جائےتو ہم اس کے لیے ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں پھر وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے"۔[الزخرف:36]
لا الله الا الله کہنے کی فضیلت
پر چند احادیث:
🌹ہمارے پیارے نبی كريمﷺ نے فرمایا:اگر میں سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ ِللہِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ اَكۡبَرُ کہوں تو یہ میرے لیے ان تمام چیزوں سے بہتر ہےجن پر سورج طلوع ہوا۔
 [صحیح مسلم:6847]
 
جس کا آخری کلام "لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ"ہو گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [سنن أبی داؤد:3116]
 
" لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا باللہَ "۔جس نے اپنی بیماری میں یہ کہا اور فوت ہو گیا تو اسے دوزخ کی آگ نہیں کھائے گی۔[جامع الترمذی:3430
 
ایمان کی تہتر شاخیں  ( ٹہنیاں)ہیں۔سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز کا دور کر دینااور سب سے بلند"لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہ"کا کہنا ہے۔[جامع الترمذی:2614]
🌴اتنے اہمیت والے کلمہ کو صرف زبان سے ادا کرنا کافی نہیں بلکہ سمجھنا بھی ضروری ہے۔
لا اله الا الله کے دو حصے ہیں
1۔لا اله:سب جھوٹےمعبودوں  کا انکار 
2۔الا اللہ:اللہ ہی کےمعبود برحق ہونے کا اقرار
مسلمان ہونے کے لیے ان کا زبان سے اقرار کرنا لازم ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص اللہ کو "اله" تو مانتا ہو لیکن نماز نہ پڑھے،جھوٹ بولے یعنی نافرمانی کے کام کرے۔جب زبان سے اللہ کو اله مان لیا تب زندگی بھی اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق گزارنا ہو گی۔ 
 📖 آج کا قصہ سنیں اور غور کریں کہ 
"لا اله الا اللہ"پر ایمان لانے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کتنے ظلم برداشت کیے مگر اس کلمہ کو نہیں چھوڑا۔  مشرکین مکہ کے ظلم کرنے کی وجہ یہی کلمہ تھا کہ وہ اللہ کو واحد معبود برحق نہیں مانتے تھے بلکہ بتوں کو بھی  اللہ کا شریک بنادیتے۔مؤذن رسول سیدنا بلال رضی اللہ عنه کافر سردار امیہ بن خلف کے غلام تھے۔اسلام قبول کرنے پر امیہ ان کی گردن میں رسی ڈال کر لڑکوں کو دے دیتا اور وہ بلال رضی اللہ عنه کو  پہاڑوں میں گھماتے پھرتے۔امیہ بھی ان کو باندھ کر مارتا،بھوکا اور پیاسا رکھتا۔دوپہر کی سخت گرمی میں فرش پر لٹا کر بھاری پتھر سیدنا بلال رضی الله عنه کے سینے پر رکھ دیتا اور ان سے اصرار کرتا کہ کفر کا کلمہ بولو یا یونہی مرجاؤ.ایک روز یہی کچھ ہو رہا تھا کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنه کا وہاں سے گزر ہوا تو انہوں نے امیہ کو رقم دے کر سیدنابلال رضی اللہ عنه کو آزاد کروایا۔
🥀دیکھا بچو!
 صحابی رسولﷺ کو اس کلمہ حق سے کس قدر محبت تھی کہ یہ ظلم بھی ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔
🥀عملی نکات:
1۔ کبھی بھی اللہ کے ذکر سے غافل نہ ہوں۔
2۔ جب بھی فارغ بیٹھے ہوں تو"لا اله الا اللہ "پڑھتے رہنا ہے 
ان شاءاللہ
اے سمیع الدعا !ہمیں ان لوگوں میں شامل کر لےجن کا دل اور زبان ہمیشہ تیری یاد میں مصروف رہتی 
ہے۔آمین یا رب العالمین



Kids Coner

قال رسول الله


تم جہاں اور جس جگہ بھی ہو،اللہ سے ڈرو"۔ [جامع الترمذی:1987
💠پیارے بچو!
تقوی کا معنی : ڈرنا، بچنا
ڈرنا : اللہ سے
بچنا: گناہوں سے
'اتق اللہ' یعنی اللہ کا ڈر(تقویٰ)
اصطلاحی معنی: اللہ کے ڈر اور خوف سے اطاعت والے کام کرنا اور نافرمانی والے کام چھوڑ دینا۔
 ہماری روزمرہ زندگی کے ہر کام میں تقوی اختیار کرنا بہت اہم ہے۔اللہ"اَلۡبَصِیُرۡ" ہے۔ ہمارا ہر عمل دیکھ رہا ہے۔جیسے کیمرہ فلم بناتا ہے ایسے ہی ہمارے ایک ایک عمل کی فلم بن رہی ہے اور وہ فلم ہمیں قیامت کے روز دکھائی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلۡتَنۡظُرۡ  نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ  ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ .
" اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور (ہر) شخص ضرور دیکھے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے اور تم اللہ سے ڈرتے رہو بےشک اللہ اس سےخوب باخبر ہےجو تم عمل کرتے ہو "۔
 [الحشر: 18]
 
🥦 تقویٰ دل کی ایسی کیفیت کا نام ہے جب دل میں آ جائے تو سمجھیں اللہ کی رضا پا لی اور دل کو  حقیقی سکون بھی مل گیا۔
اوراللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے والوں کو قرآن مجید میں بےشمار خوش خبریاں دی ہیں۔🎊 (آیات کا مفہوم ہے)
1:بے شک اللہ متقی لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ [بحوالہ التوبہ:7]
2:  تقویٰ والوں کے لیے جنت تیار کی گئی ہے۔ [بحوالہ آل عمران:133]
3: متقین کے لیے بہت بڑے اجر کا وعدہ ہے۔ [بحوالہ آل عمران:179]
4:متقین عزت والے ہوں گے۔[بحوالہ الحجرات:13]
5: اللہ تعالیٰ متقین کے گناہ دور کر دے گا اوربخش دےگا۔ [بحوالہ الانفال:29]
6: بے شک اللہ ان کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کریں۔[بحوالہ النحل:128]
7 : اور جو متقی ہو گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے کام میں آسانی کر دے گا۔ [بحوالہ الطلاق:4]
 
🥀پیارے بچو
آپ کو پتہ ہوگا ڈر دل میں ہوتا ہے جو کسی کو نظر نہیں آتا۔اللہ تعالیٰ کا ایک نام "اَلۡخَبِیۡرُ" یعنی"خوب خبر رکھنےوالا" ہے تو اس کو دل میں چھپی سب باتیں معلوم ہوتی ہیں۔
 
اب جانتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیسے تقویٰ اختیار کرنا سیکھتے تھے
ایک دفعہ خلیفہ دوم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنه نے ایک صحابی سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنه سے تقویٰ کے بارے میں پوچھا کہ تقویٰ کیا ہے؟ سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنه نے سیدنا عمر رضی اللہ عنه سے جوابا" پوچھا:کیا آپ کو کبھی کانٹوں والے راستے پر چلنے کا اتفاق ہوا ہے؟ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنه نے کہا:ہاں،تو کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ ایسے راستے پر چلتے ہوئے کیا کرتے ہیں؟سیدنا عمر رضی اللہ عنه نے کہا:دامن(کپڑوں) کو سمیٹ لیتا ہوں اور کوشش کر کے احتیاط سے(ان کانٹوں سے کپڑے بچا کر) گزر جاتا ہوں۔سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنه نے کہا:بس ایسے ہی گناہوں سے بچنے کا نام تقویٰ ہے"۔[تفسیر القرطبی:162/1]
 سبحان اللہ! کس خوب صورتی سے بات کو سمجھایا کہ گناہ سے بچنا اصل تقویٰ ہے۔
 
عملی نکات:
1۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے،چھپا کر کئے گئے کام بھی اور ظاہر بھی۔
2۔ امتحان میں ٹیچر نہ بھی دیکھ رہا ہو تو چیٹنگ نہیں کرنی،کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دینا اور جھوٹ نہیں بولنا
 
🌾اے ہمارے رب! ہمیں متقین میں شامل کر دے اور جن جن نعمتوں کا وعدہ متقین سے کیا ہے ہمیں بھی 
عطا کرنا۔ آمین یا رب العالمین

 
‌ ‌
Kids Corner



‌ ‌  قال رسول الله



مظلوم کی بددعا سے بچو"۔

[صحیح مسلم:121]

 

پیارے بچو!

✏️کیا آپ کو معلوم ہے کہ مظلوم کون ہوتا ہے؟ وہ جس کی بددعا سے بچنے کا حکم اس حدیث ﷺ میں ہے

مظلوم وہ شخص ہے جس پر ظلم کیا جائے،جو بےبس ہو اور ظلم سہنے پر مجبور ہو۔

 ظلم کیا ہے؟

کسی کی حق تلفی کرنا،جھوٹا الزام لگانا،کسی کو اس کے پیسے واپس نہ کرنا، ناحق جھگڑا کرنا، گالی گلوچ کرنا،غصہ کر کے کسی کی عزت کم کرنا،طنز کرنا،کسی کے برے برے نام رکھنا،والدین یا اساتذہ سے بدتمیزی سے بات کرنا وغیرہ سب ظلم ہیں۔

📖مظلوم کی بددعا کا قبول ہونا بھی قرآن مجید میں واضح ہے:

اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ"۔

وہ (اللہ) جو مجبور و لاچار کی دعا قبول کرتا ہے.جب وہ  اسے پکارتا ہےاور وہ اس کی تکلیف دور کر دیتا ہے"۔[النمل: 62]

ظلم کرنے سے بچنا چاہیے کیوں کہ قرآن مجید میں ظلم کرنے کے بہت بڑے نقصانات بتائے گئے ہیں جیسے:🔽

1۔ "اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا"۔[التوبة:19]

2۔ "خبردار ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے"۔[ھود:18]

3۔ "اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا"۔ [آل عمران:57]

4۔ "خبردار بے شک ظالم ہمیشہ عذاب میں ہوں گے"۔ [الشوری:45]

5۔ ظالموں کا نہ کوئی گہرا دوست ہو گا نہ کوئی سفارشی،جس کی بات مانی جائے"۔ [المؤمن:18]

💞نبی کریمﷺنے مظلوم کی بددعا سے بچنے کی تلقین کیوں کی؟

نبی کریمﷺ فرمایا:

 اور مسلمانوں کی بددعا لینے سے اجتناب کرنا کیوں کہ مظلوم کی بد دعا قبول ہوتی ہے"۔[صحیح البخاری:3059]

           سبحان اللہ!

آپ نے دیکھا کہ الله القهار، الجبار  کی نظر میں مظلوم کی کتنی اہمیت ہے۔بےشک مظلوم ظالم کو اس وقت تو نہیں روک سکتا لیکن سب سے بلند سب سے عظیم رب اس کی دعا سنتا ہے۔

📜 اب یہ قصہ سنیےاور دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے؟

 

اللہ کے پیارے نبی سیدنا موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔اس وقت کے فرعون کو اس کے جادوگروں نے ایک خواب کی تعبیر یہ دی کہ بنی اسرائیل کا ایک لڑکا تمہاری (فرعون) بادشاہت ختم کر دے گا۔فرعون بہت ڈر گیاچنانچہ فرعون نے بنی اسرائیل کے سب لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔فرعون کا یہ ظلم اس کے سارے مظالم سے بڑھ کر تھا جو وہ بنی اسرائیل پر کیا کرتا تھا۔  بنی اسرائیل نے اللہ سے یوں دعا کی: "... اے ہمارے ربتو ہمیں ان لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا جو ظالم ہیں اور ہمیں اپنی رحمت کے ساتھ ان لوگوں سے نجات دے جو کافر ہیں"۔

[یونس:86،85

 

🥀اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان مظلوموں کی بددعا قبول کی اور آپ کو معلوم ہے کہ فرعون کا کیا انجام ہوا؟ 

اللہ نے فرعون کو اس کی فوج سمیت سمندر میں غرق کر دیا جب کہ بنی اسرائیل اسی سمندر کو خیر و عافیت  کے ساتھ آرام سے پار کر گئے۔ اللہ اکبر 

(پیارے بچو! یہ ایک بہت ہی سبق آموز قصہ ہے اس کو قرآن مجید سے تفصیلا"ضرور پڑھیں)

جیسا کہ ہم نے پڑھا کہ اللہ تعالیٰ مظلوم کی بددعا کبھی رد نہیں کرتا اس لیے ہمیں ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جس سے کسی کو تکلیف ہو اور وہ ہمیں تو کچھ نہ کہہ سکے لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو ہماری شکایت لگا دے۔  

عملی نکات:

1۔ آج سے چیک کرنا ہے کہیں ہم تو کسی پر ظلم نہیں کر رہے؟؟‌ ‌
‌ ‌
‌ ‌
حدیث نمبر12

قال رسول الله

تم سچائی پر قائم رہو"۔
[صحیح مسلم:2607]
 
پیارے بچو!
آپ کو معلوم ہے کہ صادق کن کا لقب ہے؟ 
🌹یہ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کا لقب ہےیعنی ہمیشہ سچ بولنے والے ۔اس لقب سے آپﷺ کو آپ کے دشمن بھی پکارتے تھے۔پیارے بچوایک بات یاد رکھیں کہ سچ بولنے میں ہی سکون ہے جھوٹ پریشانی ہی لاتا ہے
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:"اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ"[التوبة:119]
📚اسی لیے ہنسی مذاق میں بھی جھوٹ بولنا گناہ ہے کیونکہ "جھوٹے پر اللہ کی لعنت ہے"[آل عمران:61](لعنت:اللہ کی رحمت سے دوری) اور اس کے منہ سے بدبو آتی ہے جس کی وجہ سے فرشتے کوسوں میل دور چلے جاتے ہیں(مفہوم حدیث)
 
ہمیں ایک اور حدیث سےسچ بولنےاور جھوٹ سے بچنے کے فوائد معلوم ہوتے ہیں کہ سچائی نیکی کا راستہ دکھاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے کر جاتی ہے اور آدمی سچ بولتے بولتے صدیق کا درجہ حاصل کر لیتا ہے اور جھوٹبرائی کا راستہ دکھاتا ہےاور برائی دوزخ کی طرف لے جاتی ہے۔آدمی جھوٹ بولتے بولتے اللہ کے ہاں کذاب(بہت جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔ [بحوالہ صحیح البخاری:6094]
 
ایک دفعہ رسول اللہﷺایک صحابی عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف فرما تھے(صحابی اس وقت بچے تھے)۔عبداللہ رضی اللہ عنہ کی امی نے ان کو بلایا کہ یہاں آؤ میں تمہیں ایک چیز دوں گی۔ تو نبی کریمﷺنے پوچھا:"تم اس بچے کو کیا دینا چاہتی ہو؟"والدہ نے کہا کہ میں اس کو کھجور دیناچاہتی ہوں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"اگر تم اس کو بلاتی اور کھجور نہ دیتی تو تمہارے نامہ اعمال میں یہ جھوٹ لکھ دیا جاتا" ۔
[سنن أبی داؤد:4991
یعنی کبھی کسی کام کا ارادہ نہ ہو اور صرف ویسے ہی کہہ دیا جائے کہ کروں گا/ گی تو وہ بھی جھوٹ شمار ہو گا۔
 
عملی نکات:
1۔ ہمیں مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔
2۔ اپنے عمل،اپنی باتوں اور نیت سے ہی جھوٹ پر چیک رکھنا ہے ۔
 3-  اور جھوٹ اس لیے چھوڑنا ہے کہ اللہ اور نبی کریم ﷺ کا حکم ہے۔
اے اللہ! ہمیں سچوں میں شامل کر دے اور ہم کبھی مذاق میں بھی کسی سے جھوٹ نہ بولیں۔ آمین
 
حدیث نمبر 11

قال رسول الله

جنت میں آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ دنیا میں محبت رکھتا ہے
صحیح البخاری:6168]
 
اس خوب صورت حدیث میں ایک مسلمان کی زندگی کے بہت اہم پہلو (ہدف/ٹارگٹ) کا تعین کیا گیا ہےاور وہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں جس سے بھی محبت کریں گے، جنت میں وہی ہمارے ساتھی ہوں گے۔ 
 
محبت کا لفظ حبة سے نکلا ہے یعنی بیج۔ہم جس چیز کا بیج بوئیں گے اسی کا پھل نکلے گا۔ مثلاً آم کے بیج سے آم اور آلو کے بیج سے آلو۔ 
📝کیا یہ ممکن ہے کہ بیج تو بوئیں آلو کا اور امید رکھیں کہ آم کا درخت نکلے؟
                  نہیں نا!
بالکل اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ دنیا میں تو ہمارا دل دنیاوی سامان کی طرف مائل ہو اور ہم امید یہ رکھیں کہ یوم قیامت نیکوکاروں کے ساتھ اٹھائے جائیں۔ محبت کا یہ جذبہ ہر ایک میں موجود ہے لیکن یہ محبت سب کی فرق ہوتی ہے۔ کسی کو پیسہ سے، کسی کو گھرسے، کسی کو دوستوں سے، کسی کوگھومنے پھرنے اور کھانے پینےسے، کسی کوکھلاڑیوں اور فلم ایکٹرز وغیرہ سے۔وہ اُن کی تصاویر جمع کرتے ہیں اور ان کے جیسا طرز زندگی (لائف سٹائل) اپناتے ہیں۔ان سے ملنے کی تمنا رکھتے ہیں۔ یہ سب دنیا کی وقتی محبتیں ہیں اور دنیا میں ہی رہ جائیں گی۔ 
 
جب کہ مسلمان کوایسی محبت کرنی چاہیےجس سے ہمیں دنیا کی  سب عارضی بھلائیاں بھی ملیں اور ہمیشہ رہنے والی جنت  بھی۔ 
💞وہ ہے صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت ۔وہی ہمیں سب سے بڑھ کر محبوب ہوں۔جو دین و دنیا کی ہربھلائی کا باعث ہیں ۔
 
اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کے ساتھ محبت ایمان کا حصہ ہے۔جتنی محبت زیادہ ہوگی، اطاعت اتنی زیادہ ہوگی اور اس کی لیے ان سے متعلق علم ہونا ضروری ہے۔ 
جس کے متعلق ہم جانتے نہیں، اس سے محبت کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔اس لیےہمیں اپنا وقت، طاقت اور صلاحیت اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے بارے میں جاننے اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کرنے پر لگانی چاہیے جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ؕ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ .
"کہہ دیجئے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو پیروی کرو میری (رسول ﷺ)، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔ [آل عمران:31]
 
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اوپر دی گئی آیت کی عملی تفسیر بن گئے اور خاص ہو گئے جو کہ اسلام سے پہلے اس معاشرے کے عام سے انسان تھے۔
نبی کریم ﷺ نے ایک حدیث میں تلقین کرتے ہوئے فرمایا:" کہ تین خصلتیں (باتیں) ایسی ہیں کہ جس میں یہ پیدا ہو جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا۔اول یہ کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں، دوسرا یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لیے محبت رکھے۔ تیسرا یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔
[صحیح البخاری:16]
 
حدیث واضح کر رہی ہے کہ ہمیں والدین اور بہن بھائیوں سے بھی زیادہ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت ہونی چاہیے بلکہ دوستوں سے محبت بھی اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ اچھے، دین سے محبت رکھنے والے دوست ہمیں بھی دین سے محبت سیکھائیں گے جب کہ برے دوست، برائی کی طرف لے جائیں گے۔ 
بچوکیا آپ کو سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی محبت کا قصہ معلوم ہے؟
نہیں!توہم بتاتے ہیں:
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔اس موقع پر میرے پاس مال بھی تھا ۔ چنانچہ میں نے ( دل میں ) کہا: اگر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سبقت( یہاں مراد نیکی میں آگے نکلنا ہے) لینا چاہوں تو آج لے سکتا ہوں۔چنانچہ میں اپنا آدھا مال( آپ ﷺ کی خدمت میں ) لے آیا۔رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا باقی چھوڑا ہے؟میں نے کہا:اِسی قدر (چھوڑ آیا ہوں، یعنی آدھا)اور پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال( آپﷺ کے پاس )لے آئے۔رسول اللہﷺنے ان سے پوچھا:”تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا باقی چھوڑا ہے؟ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کے رسولﷺ کو چھوڑا ہے(یعنی سارا گھر خالی کر آیا ہوں)تب مجھے( عمر رضی اللہ عنہ) کہنا پڑا،میں کسی شے میں کبھی بھی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نہیں بڑھ سکتا ۔
[بحوالہ سنن أبی داؤد: 1678]
دیکھا بچو! اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت میں آگے بڑھنے کا مقابلہ،کیا اپنے گھر کی ایک ایک چیز صدقہ کر دینا آسان ہے؟
سوچنے کی بات:
بچو!آپ بھی سوچیں کہ آپ کس سے محبت کرتے ہیں؟ اور کیا قیامت کے دن اس کا ساتھ آپ کو اچھا لگے گا؟
عملی نکات:
1۔ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے محبت دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر ہونی چاہیئے۔
2۔ اس محبت کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کے لئے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کو جاننا بہت ضروری ہے۔
3۔ دوست سے محبت بھی اللہ کی رضا کے لئے ہونی چاہیئے اور دوست وہ بنائے جائیں جو دین میں مدد دیں۔


 

حدیث  نمبر10

قال رسول الله


جو ہمیں دھوکا دیتا ہے، اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں "
[صحیح مسلم:284]
 
پیارے بچو!
کیا آپ کو پتہ ہے کہ دھوکہ دینا کیا ہے؟
 
دھوکہ:یہ ہے کہ اپنے فائدے کے لیے دوسروں کو نقصان پہنچانا. چاہےاس کے لیےجھوٹ بول کر فائدہ لینا ہو، کسی کو گمراہ کرنا، غلط معلومات دینا، چالاکی سے کام لے کر اپنا مقصد پورا کرنا، ملاوٹ کرنا، امتحان میں نقل کرنا وغیرہ  سب دھوکہ میں آئیں گے۔
 
قرآن مجید میں سورة یوسف میں سیدنا یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے سیدنا یوسف علیہ السلام کو دھوکہ کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں۔
 
قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَىٰ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ۔
 
(سیدنا یعقوب علیہ السلام نے) کہا: پیارے بیٹے! اپنے اس خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تیرے ساتھ کوئی فریب کاری (دھوکہ) کریں، شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے۔
 [یوسف:5]
 
یعنی دھوکہ دہی شیطان کی پیروی کرنے والا کرتا ہے۔
 
ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی بھی معاملہ میں کسی کو دھوکہ دے۔
 
دھوکہ کے نقصانات:
1۔سب سے پہلے تو دھوکہ دینے والے سے اللہ ناراض ہو جاتا ہے۔
2۔ اب اگر اللہ ناراض ہو گا تو لازما" شیطان خوش ہو گا کہ اس نے وہ کام کروایا جو اللہ "الغفور و الرحیم" کی ناراضی کا سبب بنا۔
3۔ جب بھی دھوکہ کھانے والے کو پتہ چلے گا کہ اس کے ساتھ دھوکا ہوا ہے تو تعلقات خراب ہوں گے۔
4۔ دھوکا کرنے والے پر کوئی اعتبار نہیں کرے گا۔
5۔ سب سے بڑی بات کہ نبی کریمﷺ نے بتا دیا کہ دھوکہ کرنے والے کا ہم سے یعنی نبی کریم ﷺ سے کوئی تعلق نہیں۔
 
کیا آپ کبھی بھی یہ چاہیں گے کہ آپ کا نبی کریم ﷺ کے ساتھ کوئی تعلق نہ رہے؟ 
 
اگر نہیں؟ تو پھر ہم سب کو دھوکہ دینے سے بچنا ہے۔ ہر ممکن کوشش کرنی ہے کہ ہم ایسا کوئی کام نہ کریں جو کہ دھوکہ دہی کے زمرہ میں آئے۔
 
ایک حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیں اپنے بھائی کے لیےوہی پسند کرنا چاہیے جو اپنے لیے پسند کریں۔ 
[بحوالہ صحیح البخاری:13]💕
 
اب آپ ہی بتائیں کیا ہمیں اچھا لگے گا کہ کوئی ہم سے پیسے تو پورے لے لے لیکن کم چاکلیٹ (یا کوئی بھی چیز) دے، خراب پھل دے دے، پتلا دودھ دے یا امتحان میں نقل کر کے ہم سے زیادہ نمبرز لے لے۔
 
نہیں نا!
تو بس جب ہمیں اپنے لیے پسند نہیں کہ کوئی ہمارے ساتھ یہ دھوکے کرے تو ہمیں بھی دوسروں کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے ۔ 
 
🌲اب سنیے ایک واقعہ کہ جس میں نبی کریم ﷺ نے کیسے دھوکہ کی وضاحت کی۔
 
ایک دفعہ نبی کریم ﷺ ایک بازار میں جا رہے تھے کہ ایک غلے والے (غلہ: گندم، جو، چاول وغیرہ) کے ڈھیر کے پاس سے گزرے۔ آپ ﷺ نے اس کے غلے کے ڈھیر میں ہاتھ ڈالا تو اندر سے نمی محسوس کی۔ آپ ﷺ نے غلے والے سے سوال کیا:اے غلے والے! یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس پر بارش پڑ گئی تھی۔ اس پر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: تو تم نے اس (بھیگے ہوئے غلے) کو اوپر کیوں نہیں رکھا تا کہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟
پھر مزید فرمایا: جس نے دھوکا کیا، وہ مجھ سے نہیں۔ یعنی ان لوگوں میں سے نہیں جو نبی کریم ﷺ سے وابستہ ہوں گے۔
[بحوالہ صحیح مسلم:284]
 
پیارے بچو! اس حدیث سے آپ نے کیا سبق سیکھا؟
 
عملی نکات:
1۔کبھی بھی کسی کو دھوکہ نہیں دینا۔
2۔ اگر کوئی چیز بیچنی ہے تو اس کی خامی بتا کر بیچنا ہے۔
3۔ جو اپنے لئے پسند کریں وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرنا ہے۔
 
 اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی مجیب الدعوات ہمیں نیکی پر چلنے کی توفیق دے آمین۔💦